اورنگ آباد، 27 مارچ(آئی این ایس انڈیا) ہر بار کی طرح اس بار بھی لوک سبھا انتخابات کو لے کر ہر پارٹی میں ٹکٹوں کے دعویداروں کی طویل فوج ہے،جن کو ٹکٹ مل جاتا ہے وہ تو خوش ہو جاتے ہیں، لیکن جنہیں ٹکٹ نہیں ملتا وہ ناراض ہونے کے ساتھ ساتھ باغی بھی ہو جاتے ہیں کئی بار تو ایسے باغی لیڈر پارٹی چھوڑ دیتے ہیں یا پھر آزاد امیدوار بن کر دعویداری ٹھوک کر اپنی پارٹی کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں لیکن ایک لیڈر ایسا بھی ہے جن کا ٹکٹ کٹا تو وہ ناراض ہو کر پارٹی کے آفس سے کرسیاں اٹھوا لے گیا۔
ملک میں اس وقت انتخابی ماحول ہے اور انتخابی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے،ساتھ ہی کئی مقامات پر لوک سبھا ٹکٹوں کی تقسیم ہو رہی ہے لیکن مہاراشٹر میں لوک سبھا کا ٹکٹ کٹنے سے بے حد ناراض کانگریس ممبر اسمبلی عبدالستار نے اپنے حامیوں کی مدد سے منگل کو پارٹی کے مقامی دفتر سے 300 کرسیاں اٹھوا لیں۔
مہاراشٹر کے اورنگ آباد کے سلود اسمبلی حلقہ سے ممبر اسمبلی عبدالستار نے کہا کہ وہ پارٹی چھوڑ چکے ہیں اور انہوں نے دعوی کیا کہ کرسیوں پر ان مالکانہ حق ہے،فس میں کرسیاں نہیں ہونے کی وجہ سے کانگریس کارکنوں کی میٹنگ نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دفتر میں ہوئی،ستار کو امید تھی کہ پارٹی انہیں اورنگ آباد سیٹ سے لوک سبھا کا ٹکٹ دے گی، لیکن اس سیٹ پر ایم ایل سی سبھاش جھباد کو ٹکٹ دے دیا گیا جس سے ستار شاید ناراض ہو گئے۔ سوال پوچھے جانے پر کہ آپ کرسیاں کیوں لے گئے؟ اس پر کانگریس ممبر اسمبلی عبدالستار نے کہاکہ میرا سامان تھا تو میرا لے جانا درست ہے۔وہ اس قدرناراض تھے کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ ایک دو کرسی نہیں بلکہ 300 کرسیاں اٹھا لے گئے، ممبر اسمبلی ستار کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیاہے کہ کرسیاں انہیں کی تھیں۔ممبر اسمبلی ستار تو ٹکٹ کاٹے جانے کے بعد پارٹی کے آفس سے کرسیاں اٹھا لے گئے لیکن ایسے کئی لیڈر ہیں جو ٹکٹ نہیں ملنے پر پارٹی چھوڑ دیتے ہیں اور وہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اٹھتے ہیں، اگرچہ بہت سے ایسے لیڈر بھی ہیں جو کسی اور پارٹی میں جاکر ٹکٹ لے کر الیکشن لڑتے ہیں۔گزشتہ دنوں مہاراشٹر میں ہی کانگریس کے سینئر لیڈر اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رادھاکرش وکھے پاٹل نے بیٹے کو ٹکٹ نہیں دیے جانے سے ناراض ہو کر پارٹی چھوڑ دی۔ان کے پارٹی چھوڑنے سے پہلے وکھے پاٹل کے بیٹے سنجے وکھے پاٹل کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔مانا جا رہا ہے کہ احمد نگر لوک سبھا سیٹ پر ٹکٹ نہیں ملنے سے سنجے بی جے پی میں شامل ہو گئے،بعد میں ان کے والد نے بھی کانگریس چھوڑ دیا،صرف مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی ٹکٹ نہیں دئے جانے پر لیڈران کی ناراضگی کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔